Your Journey, Our Commitment.
NADRA Vaccination Certificate for Umrah and Hajj: What Pakistani Pilgrims Need
اردو

عمرہ اور حج کے لیے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ: پاکستانی عازمین کے لیے ضروری معلومات

کاغذی ویکسینیشن کارڈ اب کافی نہیں رہے۔ پاکستان سے روانہ ہونے والے عازمین کے لیے ڈیجیٹل تقاضے کا کیا مطلب ہے، یہاں پڑھیے۔

Read this guide in English

سعودی عرب عمرہ اور حج کے لیے آنے والوں سے مخصوص ویکسینیشن کا ثبوت مانگتا ہے، اور پاکستان اب یہ ثبوت NADRA کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جاری کرتا ہے۔ ہاتھ سے لکھا ہوا وہ پیلا کارڈ جو برسوں سے استعمال ہوتا آیا ہے، اب بذاتِ خود کافی نہیں سمجھا جاتا۔

اصل میں درکار کیا ہے

سب سے اہم ویکسین مینینجائٹس (ACWY) ہے۔ سعودی حکام اسے عمرہ اور حج دونوں کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں، اور عام طور پر یہ روانگی سے کم از کم دس دن پہلے لگوانی ہوتی ہے تاکہ اس کا اثر قائم ہو چکا ہو۔ سرٹیفکیٹ پر ویکسین کا نام، تاریخ اور لگانے والے مرکز کی تفصیل درج ہونی چاہیے۔

موسمی تقاضے اس کے علاوہ ہیں۔ بعض برسوں میں فلو یا کسی اور ویکسین کی سفارش کی جاتی ہے، اور کچھ حالات میں وہ لازم بھی ہو سکتی ہے۔ یہ فہرست بدلتی رہتی ہے، اس لیے اپنے سفر کی تاریخوں کے لیے موجودہ تقاضے ہم سے یا متعلقہ مرکز سے تصدیق کر لیجیے۔

ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں

ویکسین کسی مجاز سرکاری یا نجی مرکز سے لگوائی جاتی ہے۔ مرکز آپ کا ریکارڈ قومی نظام میں درج کرتا ہے، جو آپ کے CNIC سے منسلک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ NIMS پورٹل سے حاصل کیا جاتا ہے، جس پر ایک QR کوڈ ہوتا ہے جسے ایئرپورٹ پر اسکین کیا جا سکتا ہے۔

ایک عام غلطی یہ ہے کہ لوگ ویکسین تو لگوا لیتے ہیں مگر یہ تصدیق نہیں کرتے کہ مرکز نے اندراج واقعی کیا یا نہیں۔ اگر اندراج نہ ہوا ہو تو سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوتا، اور یہ بات اکثر روانگی سے چند دن پہلے کھلتی ہے۔ ویکسین لگوانے کے دو یا تین دن بعد خود پورٹل پر جا کر دیکھ لیجیے۔

نام کا املا پاسپورٹ سے ملنا چاہیے

سرٹیفکیٹ پر نام اسی طرح لکھا ہونا چاہیے جیسے پاسپورٹ پر ہے۔ اگر CNIC اور پاسپورٹ کے املا میں فرق ہے — جو غیر معمولی بات نہیں — تو اس فرق کو پہلے درست کروائیے، بعد میں نہیں۔ ایئرپورٹ پر اس کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی۔

ساتھ کیا لے کر جائیں

ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کا پرنٹ اور موبائل پر اس کی ایک کاپی، دونوں ساتھ رکھیے۔ اگر آپ کے پاس پرانا کاغذی کارڈ بھی ہے تو اسے ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں — بعض اوقات عملہ اسے بھی دیکھ لیتا ہے — مگر اصل چیز ڈیجیٹل ریکارڈ ہی ہے۔

یہ کام کب کریں

روانگی سے کم از کم تین ہفتے پہلے۔ اس سے دس دن کی مدت بھی پوری ہو جاتی ہے اور اگر اندراج میں کوئی مسئلہ ہو تو اسے درست کرنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔ رمضان اور حج کے موسم میں مراکز پر رش ہوتا ہے، اس لیے اُن دنوں میں اور بھی پہلے کر لینا بہتر ہے۔

عام سوالات

پاکستان سے حج اور عمرہ پر جانے والوں کے لیے اب NADRA سے منسلک ڈیجیٹل ثبوت درکار ہے۔ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ اور پرانا کارڈ، دونوں ساتھ رکھیے، لیکن ایئرپورٹ پر جس چیز پر انحصار کیا جاتا ہے وہ ڈیجیٹل ریکارڈ ہے۔

مینینجائٹس ACWY عام طور پر روانگی سے کم از کم دس دن پہلے لگوائی جاتی ہے۔ ہم تین ہفتے پہلے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اگر اندراج میں کوئی خرابی ہو تو اسے درست کرنے کا وقت مل سکے۔

سفر سے پہلے اسے درست کروائیے۔ سرٹیفکیٹ کا نام پاسپورٹ کے املا سے مطابقت رکھنا چاہیے۔ ایئرپورٹ پر یہ اصلاح نہیں ہو سکتی، اور فرق کی وجہ سے سفر رک سکتا ہے۔

عمر کی ایک حد سے اوپر کے بچوں کے لیے عموماً درکار ہوتی ہے، اور بہت چھوٹے بچوں کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ عمر کی حدیں وقتاً فوقتاً بدلتی ہیں، اپنے بچوں کی عمر بتا کر ہم سے موجودہ صورتحال کی تصدیق کر لیجیے۔

This Urdu translation is provided for convenience. Where it differs from the English version, the English text is the one we maintain.

Ready to Plan Your Journey?

Tell us where you want to go. We'll help you plan the rest — flights, hotels, visas and everything in between.